RAZ E KAINAT
🏠
Login

Islamic Masail

Authentic answers in the light of Quran & Hadith.

Published Answers

📅
Answer 10 Jul 2026

sirate mustafa / سیرت مصطفٰی

*قسط۔ نمبر۔ (1)*🌹

*حضور تاجدار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی*

*مکی زندگی*🌹

🌹*محمد وہ کتاب کون کا طغراۓ پیشانی*
*محمد وہ حریم قدس کا شمع شبسانی*🌹
🌹*مبشر جس کی بعثت کا ظہور عیسیٰ مریم*
*مصدق جس کی عظمت کا لب موسیٰ عمرانی*🌹
*علیہم الصلوٰۃ والسلام*

🌹*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم*🌹

اللھم لک الحمد سرمدا۔ صل علیٰ حبیبک المصطفیٰ۔ والہ وصحبہ ابدا۔

*حسبی ربی جل اللہ*
*نور محمد صلی اللّٰہ*
*لامقصود الا اللہ*
*چل مرے خامہ بسم اللّٰہ*

🌹*پہلا باب*
🌹*خاندانی حالات*🌹

*نسب نامہ*

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا نسب شریف والد ماجد کی طرف سے یہ ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ بن عبد اللہ۔ بن عبد المطلب۔ بن ہاشم۔ بن عبد مناف۔ بن قصی۔ بن کلاب۔ بن مرہ۔ بن کعب۔ بن لؤی۔ بن غالب۔ بن فہر۔ بن مالک۔ بن نضر۔ بن کنانہ۔ بن خزیمہ۔ بن مدرکہ۔ بن الیاس۔ بن مضر۔ بن نزار۔ بن معد۔ بن عدنان (بخاری۔ ج۔ ا۔ باب مبعث النبی صلی اللہ علیہ وسلم)

اور والدہ ماجدہ کی طرف سے حضور کا شجرۂ نسب یہ ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بن آمنہ۔ بنت وہب۔ بن عبد مناف۔ بن زہرہ۔ بن کلاب۔ بن مرہ۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے والدین کا نسب نامہ کلاب بن مرہ پر مل جاتا ہے۔ اور آگے چل کر دونوں سلسلہ ایک ہوجاتا ہے۔ عدنان تک آپ کا نسب نامہ صحیح سندوں کے ساتھ باتفاق مؤرخین ثابت ہے اس کے بعد کے ناموں میں بہت کچھ اختلاف ہے۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی اپنا نسب نامہ بیان فرماتے تھے تو۔ عدنان۔ ہی تک ذکر فرماتے تھے۔ (کرمانی بحوالہ حاشیہ بخاری۔ ج۔ 1۔ صفحہ 543)
مگر اس پر تمام مؤرخین کا اتفاق ہے کہ۔ عدنان۔ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فرزند ارجمند ہیں۔

🌹*خاندانی شرافت*🌹

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان و نسب نجابت وشرافت میں تمام دنیا کے خاندانوں سے اشرف و اعلیٰ ہے اور یہ وہ حقیقت ہے کہ آپ کے بدترین دشمن کفار مکہ بھی کبھی اس کا انکار نہ کرسکے۔ چنانچہ حضرت ابو سفیان جب وہ کفر کی حالت میں تھے۔ بادشاہ روم ہرقل کے بھرے دربار میں اس حقیقت کا اقرار کیا کہ۔ ھوفینا ذونسب۔ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم۔ عالی خاندان۔ ہیں (بخاری۔ ج۔ صفحہ 4)

حالانکہ اس وقت وہ آپ کے بدترین دشمن تھے۔ اور چاہتے تھے کہ اگر ذرا بھی کوئی گنجائش ملے تو آپ کی ذات پاک پر کوئی عیب لگا کر بادشاہ روم کی نظروں سے آپ کا وقار گرادیں مسلم شریف کی روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے۔ کنانہ۔ کو برگزیدہ بنایا۔ اور۔ کنانہ۔ میں سے۔ قریش۔ کو چنا۔ اور۔ قریش۔ میں سے۔ بنی ہاشم۔ کو منتخب فرمایا۔ اور بنی ہاشم۔ میں سے مجھ کو چن لیا۔(مشکوٰۃ۔ فضائل سیدالمرسلین)

بہر حال یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ۔
لہ النسب العالی فلیس کمثلہ
حسیب نسیب منعم متکرم
یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان اس قدر بلند مرتبہ ہے کہ کوئی بھی حسب و نسب والا اور نعمت و بزرگی والا آپ کے مثل نہیں ہے۔

*قریش*۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان نبوت میں سبھی حضرات اپنی گوناگوں خصوصیات کی وجہ سے بڑے نامی گرامی ہیں۔ مگر چند ہستیاں ایسی ہیں جو آسمان فضل وکمال پر چاند تارے بن کر چمکے۔ ان باکمالوں میں سے۔ فہر بن مالک۔ بھی ہیں ان کا لقب قریش۔ ہے۔ اور ان کی اولاد۔ قریشی۔ یا۔ قریش۔ کہلاتی ہے

فہر بن مالک۔ قریش اس لئے کہلاتے ہیں۔ کہ قریش۔ ایک سمندری جانور کا نام ہے جو بہت ہی طاقتور ہوتا ہے اور سمندری جانوروں کو کھا ڈالتا ہے۔ یہ تمام جانوروں پر ہمیشہ غالب ہی رہتا ہے کبھی مغلوب نہیں ہوتا۔ چونکہ۔ فہر بن مالک۔ اپنی شجاعت۔ اور خدا داد طاقت کی بنا پر تمام قبائل عرب پر غالب تھے۔ اس لئے تمام اہل عرب ان کو قریش کے لقب سے پکارنے لگے۔ چنانچہ اس بارے میں۔ شمرخ بن عمرو حمیری۔ کا شعر بہت مشہور ہے کہ۔
وقریش ھی التی تسکن البحر
بھاسمیت قریش قریشا
یعنی۔ قریش۔ ایک جانور ہے جو سمندر میں رہتا ہے۔ اسی کے نام پر قبیلۂ قریش کا نام۔ قریش رکھ دیا گیا۔(زرقانی علی المواہب۔ ج۔ 1۔ صفحہ 76)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ماں باپ دونوں کا سلسلۂ نسب فہر بن مالک سے ملتا ہے۔ اس لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ماں باپ دونوں کی طرف سے قریشی ہیں۔

*ہاشم*۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پردادا۔ ہاشم۔ بڑی شان و شوکت کے مالک تھے۔ ان کا اصلی نام۔ عمرو۔ تھا۔ انتہائی بہادر۔ بیحد سخی اور اعلیٰ درجے کے مہمان نواز تھے۔ ایک سال عرب میں بہت سخت قحط پڑ گیا۔ اور لوگ دانے دانے کو محتاج ہو گۓ۔ تو یہ ملک شام سے خشک روٹیاں خرید کر حج کے دنوں میں مکہ پہنچے اور روٹیوں کا چورہ کر کے اونٹ کے گوشت کے شوربے میں ثرید بناکر تمام حاجیوں کو خوب پیٹ بھر کر کھلا یا۔ اس دن سے لوگ ان کو۔ ہاشم۔(روٹیوں کا چورہ کر نے والا) کہنے لگے۔(مدارج النبوۃ۔ ج۔ 2۔ صفحہ۔ 8۔

چونکہ یہ۔ عبد مناف۔ کے سب لڑکوں میں بڑے اور باصلاحیت تھے اس لئے عبد مناف کے بعد کعبہ کے متولی۔ اور سجادہ نشین ہو ۓ۔ بہت حسین و خوبصورت اور وجیہ تھے۔ جب سن شعور کو پہنچے تو ان کی شادی مدینہ میں قبیلۂ خزرج کے ایک سردار عمرو کی صاحبزادی سے ہوئی۔ جن کا نام سلمی' تھا۔ اور ان کے صاحبزادے۔ عبد المطلب۔ مدینہ ہی میں پیدا ہوئے۔ چونکہ ہاشم پچیس سال کی عمر پاکر ملک شام کے راستہ میں بمقام۔ غزہ۔ انتقال کر گئے اس لئے عبد المطلب مدینہ ہی میں اپنے نانا کے گھر پلے بڑھے۔ اور جب سات یا آٹھ سال کے ہوگئے تو مکہ آکر اپنے خاندان والوں کے ساتھ رہنے لگے۔

*عبد المطلب*۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا۔ عبد المطلب۔ کا اصلی نام۔ شیبہ۔ ہے۔ یہ بڑے ہی نیک نفس اور عابد و زاہد تھے۔ غار حراء۔ میں کھانا پانی ساتھ لے جاتے۔ اور کیٔ کیٔ دنوں تک لگاتار خدا کی عبادت میں مصروف رہتے۔ رمضان شریف کے مہینے میں اکثر غار حراء میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ اور خدا کے دھیان میں گوشہ نشین رہا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نور نبوت ان کی پیشانی میں چمکتا تھا۔ اور ان کے بدن سے مشک کی خوشبو آتی تھی۔ اہل عرب خصوصاً قریش کو ان سے بڑی عقیدت تھی۔ مکہ والوں پر جب کوئی مصیبت آتی یا قحط پڑ جاتا تو لوگ عبد المطلب کو ساتھ لے کر پہاڑ پر چڑھ جاتے۔ اور بارگاہ خداوندی میں ان کو وسیلہ بنا کر دعا مانگتے تھے۔ تو دعا مقبول ہو جاتی تھی۔ یہ لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے سے لوگوں کو بڑی سختی کے ساتھ روکتے تھے۔ اور چور کا ہاتھ کاٹ ڈالتے تھے۔ اپنے دسترخوان سے پرندوں کو بھی کھلایا کرتے تھے۔ اس لئے ان کا لقب۔ مطعم الطیر۔(پرندوں کو کھلانے والا) ہے۔ شراب اور زنا کو حرام جانتے تھے۔ اور عقیدہ کے لحاظ سے۔ موحد۔ تھے۔ زمزم شریف۔ کا کنواں جو بالکل پٹ گیا تھا۔ آپ ہی نے اس کو نۓ سرے سے کھدواکر درست کیا۔ اور لوگوں کو آب زمزم سے سیراب کیا۔ آپ بھی کعبہ کے متولی اور سجادہ نشین ہو ۓ۔ اصحاب فیل کا واقعہ آپ ہی کے وقت میں پیش آیا۔ ایک سو بیس برس کی عمر میں آپ کی وفات ہوئی(زرقانی علی المواہب۔ ج 1۔ صفحہ 72)

بحوالہ۔ سیرت مصطفٰی

مصنف علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی رحمتہ علیہ
12۔ محرم الحرام 1448
28۔ جون 2026
ٹایپنگ میں اگر کوئی غلطی ہو تو پرسنل پہ رابطہ کریں
محمد زبیر احمد قادری مجولیا بازار ضلع سیتا مڑھی بہار
رابطہ نمبر 8084432737
Answer 10 Jul 2026

Kurbani ka bayan / قربانی کا بیان

قسط اول
اضحیہ یعنی قربانی کا بیان
مخصوص جانور کو مخصوص دن میں بہ نیت تقرب ذبح کرنا قربانی ہے اور کبھی اوس جانور کو بھی اضحیہ اور قربانی کہتے ہیں جو ذبح کیا جاتا ہے۔
قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے جو اس امت کے لئے باقی رکھی گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قربانی کرنے کا حکم دیا گیا۔
ارشاد فرمایا۔ فصل لربک وانحر
ترجمہ۔ تم اپنے رب کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ اس کے متعلق پہلے چند احادیث ذکر کی جاتی ہیں پھر فقہی مسأل بیان ہوں گے۔
حدیث نمبر۔ 1۔ ابوداؤد ترمذی وابن ماجہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے راوی کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یوم النحر
(دسویں ذی الحجہ) میں ابن آدم کا کوئی عمل خدا کے نزدیک خون بہانے (قربانی کرنے) سے زیادہ پیارا نہیں اور وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگ اور بال اور کھروں کے ساتھ آۓ گا اور قربانی کا خون زمین پر
گرنے سے قبل خدا کے نزدیک مقام قبول میں پہنچ جاتا ہے
لہذا اس کو خوش دلی سے کرو۔
حدیث نمبر۔ 2۔ طبرانی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے راوی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے خوشی دل سے طالب ثواب ہو کر قربانی کی وہ آتش جہنم سے حجاب (روک) ہوجائے گی۔
حدیث نمبر۔ 3۔ طبرانی ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو روپیہ عید کے دن قربانی میں خرچ کیا گیا اس سے زیادہ کوئی روپیہ پیارا نہیں۔
حدیث نمبر۔ 4۔ ابن ماجہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس میں وسعت ہو اور قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آۓ۔
حدیث نمبر۔ 5۔ ابن ماجہ نے زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ صحابہ
رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ قربانیاں کیا ہیں فرمایا تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے لوگوں نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے اس میں کیا ثواب ہے فرمایا ہر بال کے مقابل نیکی ہے عرض کی اون کا کیا حکم ہے فرمایا اون کے ہر بال کے بدلے میں نیکی ہے
حدیث نمبر۔ 6۔ صحیح بخاری میں براء رضی اللہ عنہ سے مروی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے پہلے جو کام آج ہم کریں گے وہ یہ ہے کہ نماز پڑھیں پھر اوس کے بعد قربانی کریں گے جس نے ایسا کیا اوس نے ہماری سنت
(طریقہ)کو پالیا اور جس نے پہلے ذبح کرلیا وہ گوشت ہے جو اوس نے پہلے سے اپنے گھر والوں کے لئے طیار کرلیا قربانی سے اوسے کچھ تعلق نہیں۔
ابو بردہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور یہ پہلے ہی ذبح کر چکے تھے (اس خیال سے کہ پروس کے لوگ غریب تھے انھوں نے چاہا کہ اون کو گوشت مل جائے) اور عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس بکری کا چھ ماہیہ ایک بچہ ہے فرمایا تم اوسے ذبح کرلو اور تمہارے سوا کسی کے لئے چھ ماہیہ بچہ کفایت نہیں کریگا۔
حدیث نمبر۔ 7۔ امام احمد وغیرہ براء رضی اللہ عنہ سے راوی کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج کے دن جو کام ہم کو پہلے کرنا ہے وہ نماز ہے اوس کے بعد قربانی کرنا ہے جس نے ایسا کیا وہ ہماری سنت کو پہنچا اور جس نے پہلے ذبح کر ڈالا وہ گوشت ہے جو اوس نے اپنے گھر والوں کے لئے پہلے ہی سے کر لیا نسک یعنی قربانی سے اوس کو کچھ تعلق نہیں۔
بحوالہ۔ بہار شریعت
حصہ۔ نمبر۔ 15
باب۔ قربانی کا بیان
3۔ ذی قعدہ 1447
21۔ اپریل 2026



قسط دوم
اضحیہ یعنی قربانی کا بیان
حدیث نمبر۔ 8۔ امام مسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے راوی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ سینگ والا مینڈھا لایا جائے جو سیاہی میں چلتا ہو اور سیاہی میں بیٹھتا ہو اور سیاہی میں نظر کرتا ہو یعنی اوس کے پاؤں سیاہ ہوں اور پیٹ سیاہ ہو اور آنکھیں سیاہ ہوں وہ قربانی کے لئے حاضر کیا گیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ چھری لاؤ پھر فرمایا اسے پتھر پر تیز کر لو پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری لی اور مینڈھے کو لٹایا اور اوسے ذبح کیا پھر فرمایا۔
بسم اللہ اللھم تقبل من محمد وآل محمد و من امتہ محمد۔
ترجمہ۔ الٰہی تو اس کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اور اون کی آل اور امت کی طرف سے قبول فرما۔
حدیث نمبر۔ 9۔ امام احمد
وابوداود و ابن ماجہ و دارمی جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذبح کے دن دو مینڈھے سینگ والے چت کبرے خصی کۓ ہوئے ذبح کۓ جب اون کا منھ قبلہ کو کیا یہ پڑھا۔
انی وجھت وجھی للذی فطرالسموت والارض علی ملتہ ابراھیم حنیفا وما انا من المشرکین ان صلاتی ونسکی
ومحیای ومماتی للہ ربّ العالمین لا شریک لہ و بذلک امرت وانا من المسلمین اللھم منک ولک عن محمد وامتہ
بسم اللہ واللہ اکبر۔ اس کو پڑھ کر ذبح فرمایا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا الہی یہ میری طرف سے ہے اور میری امت میں اوس کی طرف سے ہے جس نے قربانی نہیں کی۔
حدیث نمبر۔ 10۔ امام بخاری ومسلم نے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھے چت کبرے سینگ والوں کی قربانی کی اونھیں اپنے دست مبارک سے ذبح کیا اور بسم اللہ واللہ اکبر کہا کہتے ہیں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ اپنا پاؤں ان کے پہلوؤں پر رکھا اور بسم اللہ واللہ اکبر کہا
حدیث نمبر۔ 11۔ ترمذی میں حنش سے مروی وہ کہتے ہیں میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کہ دو مینڈھے کی قربانی کرتے ہیں میں نے کہا یہ کیا اونھوں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کروں لہذا میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کرتا ہوں۔
حدیث نمبر۔ 12۔ ابوداؤد
ونسایٔ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے یوم اضحی' کا حکم دیا گیا اس دن کو خدا نے اس امت کے لئے عید بنایا ایک شخص نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتاۓ اگر میرے پاس منیحہ (منیحہ اوس جانور کو کہتے ہیں جو دوسرے نے اسے اس لۓ دیا ہے کہ یہ کچھ دنوں اوس کے دودھ وغیرہ سے فائدہ اٹھاۓ پھر مالک کو واپس کر دیے)کے سوا کوئی جانور نہ ہو تو کیا اوسی کی قربانی کردوں۔ فرمایا۔ نہیں۔
ہاں تم اپنے بال اور ناخن ترشواؤ اور مونچھیں ترشواؤ اور موۓ زیرے ناف کو مونڈو اسی میں تمہاری قربانی خدا کے نزدیک پوری ہو جائے گی۔ یعنی جس کو قربانی کی توفیق نہ ہو اوسے ان چیزوں کے کرنے سے قربانی کا ثواب حاصل ہو جائے گا۔
حدیث نمبر۔ 13۔ مسلم و ترمذی و نسایٔ وابن ماجہ
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے راوی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ذی الحجہ کا چاند دیکھ لیا اور اوس کا ارادہ قربانی کرنے کا ہے تو جب تک قربانی نہ کرلے بال اور ناخنوں سے نہ لے یعنی نہ ترشواۓ
حدیث نمبر۔ 14۔ طبرانی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قربانی میں گاۓ سات کی طرف سے اور اونٹ سات کی طرف سے ہے
حدیث نمبر۔15۔ ابوداؤد ونسایٔ و ابن ماجہ مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ سے راوی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بھیڑکا جذع
(چھ مہینے کا بچہ)سال بھر والی بکری کے قأم مقام ہے
بحوالہ۔ بہار شریعت
حصہ۔ نمبر۔ 15
باب۔ قربانی کا بیان
4۔ ذی قعدہ 1447
22۔ اپریل2026


قسط سوم
اضحیہ یعنی قربانی کا بیان
حدیث نمبر۔ 16۔ امام احمد نے روایت کی کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افضل قربانی وہ ہے جو باعتبار قیمت اعلیٰ ہو اور خوب فربہ ہو۔
حدیث نمبر۔ 17۔ طبرانی ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے راوی کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے رات میں قربانی کرنے سے منع فرمایا
حدیث نمبر۔ 18۔ امام احمد وغیرہ حضرت علی سے راوی کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاچار قسم کے جانور قربانی کے لئے درست نہیں۔ (1)کانا۔ جس کا کا نا پن ظاہر ہے اور (2)بیمار۔ جس کی بیماری ظاہر ہو اور (3)لنگڑا۔ جس کا لنگ ظاہر ہے اور (4)ایسالاغر جس کی ہڈیوں میں مغز نہ ہو۔ اسی کی مثل امام مالک و احمد و ترمذی وابوداود و نسایٔ و ابن ماجہ و دارمی براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی۔
حدیث نمبر۔ 19۔ امام احمد و ابن ماجہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کان کٹے ہوئے اور سینگ ٹوٹے ہوئے کی قربانی سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر 20۔ ترمذی و ابوداؤد و نسایٔ و دارمی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم جانوروں کے کان اور آنکھیں غور سے دیکھ لیں اور اوس کی قربانی نہ کریں جس کے کان کا اگلا حصہ کٹا ہو اور نہ اوس کی جس کے کان کا پچھلا حصہ کٹا ہو نہ اوس کی جس کا کان پھٹا ہو یا کان میں سوراخ ہو۔
حدیث نمبر۔ 21۔ امام بخاری ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ میں
نحروذبح فرماتے تھے۔
بحوالہ۔ بہار شریعت
حصہ۔ نمبر۔ 15
باب۔ قربانی کا بیان
5۔ ذی قعدہ 1447
23۔ اپریل 2026





قسط چہارم
اضحیہ یعنی قربانی کا بیان
مسأل فقھیہ
قربانی کیٔ قسم کی ہے
(1)غنی اور فقیر دونوں پر واجب۔
(2) فقیر پر واجب ہو غنی پر واجب نہ ہو۔
(3)غنی پر واجب ہو فقیر پر واجب نہ ہو۔ دونوں پر واجب ہو اوس کی صورت یہ ہے کہ قربانی کی منت مانی یہ کہا کہ اللہ (عزوجل) کے لئے مجھ پر بکری یا گائے کی قربانی کرنا ہے یااس بکری یا اس گاۓ کو قربانی کرنا ہے۔ فقیر پر واجب ہو غنی پر نہ ہو اس کی صورت یہ ہے کہ فقیر نے قربانی کے لئے جانور خریدا اس پر اس جانور کی قربانی واجب ہے اور غنی اگر خریدتا تو اس خرید نے سے قربانی اوس پر واجب نہ ہو تی
غنی پر واجب ہو فقیر پر واجب نہ ہو اس کی صورت یہ ہے کہ قربانی کا وجوب نہ خریدنے سے ہو نہ منت ماننے سے بلکہ خدانے جو اسے زندہ رکھا ہے اس کے شکریہ میں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کے احیا (یعنی سنت ابراہیمی کو قائم رکھنے کے لئے) میں جو قربانی واجب ہے وہ صرف غنی پر ہے (عالمگیری)
مسٔلہ نمبر (1) مسافر پر قربانی واجب نہیں اگر مسافر نے قربانی کی یہ تطوع (نفل) ہے اور فقیر نے اگر نہ منت مانی ہو نہ قربانی کی نیت سے جانور خریدا ہو اوس کا قربانی کرنا بھی تطوع ہے (عالمگیری)
مسٔلہ نمبر (2)بکری کا مالک تھا اور اوس کی قربانی کی نیت کرلی یا خریدنے کے وقت قربانی کی نیت نہ تھی بعد میں نیت کرلی تو اس نیت سے قربانی واجب نہیں ہوگی (عالمگیری)
مسٔلہ نمبر (3) قربانی واجب ہونے کے شرأط یہ ہیں (1) اسلام یعنی غیر مسلم پر قربانی واجب نہیں (2)اقامت یعنی مقیم ہونا۔ مسافر پر واجب نہیں (3) تونگری یعنی مالک نصاب ہونا یہاں مالداری سے مراد وہی ہے جس سے صدقۂ فطر واجب ہوتا ہے وہ مراد نہیں جس سے زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ (4)حریت یعنی آزاد ہونا جو آزاد نہ ہو اوس پر قربانی واجب نہیں کہ غلام کے پاس مال ہی نہیں لہذا عبادت مالیہ اوس پر واجب نہیں۔
مرد ہونا اس کے لئے شرط نہیں
عورتوں پر واجب ہوتی ہے جس طرح مردوں پر واجب ہوتی ہے۔
اس کے لئے بلوغ شرط ہے یا نہیں اس میں اختلاف ہے اور نابالغ پر واجب ہے تو آیا خود اوس کے مال سے قربانی کی جائے گی یا اوس کا باپ اپنے مال سے قربانی کرے گا۔
ظاھرالروایہ یہ ہے کہ نہ خود نابالغ پر واجب ہے اور نہ اوس کی طرف سے اوس کے باپ پر واجب ہے اور اسی پر فتویٰ ہے(درمختار وغیرہ)
مسٔلہ نمبر (4) مسافر پر اگر چہ واجب نہیں مگر نفل کے طور پر کرے تو کرسکتا ہے ثواب پائے گا۔ حج کرنے والے جو مسافر ہوں اون پر قربانی واجب نہیں اور مقیم ہوں تو واجب ہے جیسے کہ مکہ کے رہنے والے حج کریں تو چونکہ یہ مسافر نہیں ان پر واجب ہو گی (درمختار وغیرہ)
مسٔلہ نمبر (5) شرأط کا پورے وقت میں پایا جانا ضروری نہیں بلکہ قربانی کے لئے جو وقت مقرر ہے اوس کے کسی حصہ میں شرأط کا پایا جانا وجوب کے لئے کافی ہے مثلاً ایک شخص ابتداۓ وقت قربانی میں کافر تھا پھر مسلمان ہوگیا اور ابھی قربانی کا وقت باقی ہے اوس پر قربانی واجب ہے جبکہ دوسرے شرأط پاۓ جایٔں اسی طرح غلام تھا اور آزاد ہوگیا اوس کے لئے بھی یہی حکم ہے یوہیں اول وقت میں مسافر تھا اور اثنائے وقت میں مقیم ہوگیا اس پر بھی قربانی واجب ہو گیٔ یا فقیر تھا اور وقت کے اندر مالدار ہوگیا اس پر بھی قربانی واجب ہے (عالمگیری)
بحوالہ۔ بہار شریعت
حصہ۔ نمبر۔ 15
باب قربانی کا بیان
6۔ ذی قعدہ 1447
24۔ اپریل 2026



قسط پنجم
اضحیہ یعنی قربانی کا بیان
مسأل فقھیہ
مسٔلہ نمبر(6) قربانی واجب ہونے کا سبب وقت ہے جب وہ وقت آیا اور شرأط وجوب پاۓ گۓ قربانی واجب ہو گیٔ اور اس کا رکن ان مخصوص جانوروں میں کسی کو قربانی کی نیت سے ذبح کرنا ہے۔ قربانی کی نیت سے دوسرے جانور مثلاً مرغ کو ذبح کرنا ناجائز ہے (درمختار)
مسٔلہ نمبر (7) جو شخص دوسو درہم یا بیس دینار کا مالک ہو یا حاجت کے سوا کسی ایسی چیز کا مالک ہو جس کی قیمت دوسو درہم ہو وہ غنی ہے اس پر قربانی واجب ہے حاجت سے مراد رہنے کا مکان اور خانہ داری کے سامان جن کی حاجت ہو اور سواری کا جانور اور خادم اور پہننے کے کپڑے ان کے سوا جو چیزیں ہوں وہ حاجت سے زائد ہیں (عالمگیری وغیرہ)
مسٔلہ نمبر (8)اس شخص پر دین ہے اور اس کے اموال سے دین کی مقدار مجرا کی جاۓ (کٹوتی کی جائے) تو نصاب نہیں باقی رہتی اس پر قربانی واجب نہیں اور اگر اس کا مال یہاں موجود نہیں ہے اور ایام قربانی (10۔ 11۔ 12۔ ذی الحجہ) گزر نے کے بعد وہ مال اسے وصول ہوگا تو قربانی واجب نہیں (عالمگیری)
مسٔلہ نمبر (9)ایک شخص کے پاس دوسو درہم تھے سال پورا ہوا اور ان میں سے پانچ درہم زکوٰۃ میں دیے ایک سو پچانوے باقی رہے اب قربانی کا دن آیا تو قربانی واجب ہے اور اگر اپنے ضروریات میں پانچ درہم خرچ کرتا تو قربانی واجب نہ ہوتی (عالمگیری)
مسٔلہ نمبر (10) مالک نصاب نے قربانی کے لیے بکری خریدی تھی وہ گم ہوگئی اور اس شخص کا مال نصاب سے کم ہوگیا اب قربانی کا دن آیا تو اس پر یہ ضروری نہیں کہ دوسرا جانور خرید کر قربانی کرے اور اگر وہ بکری قربانی ہی کے دنوں میں مل گیٔ اور یہ شخص اب بھی مالک نصاب نہیں ہے تو اس پر اس بکری کی قربانی واجب نہیں (عالمگیری)
مسٔلہ نمبر (11) عورت کا مہر شوہر کے ذمہ باقی ہے اور شوہر مالدار ہے تو اس مہر کی وجہ سے عورت کو مالک نصاب نہیں مانا جائے گا اگر چہ مہر معجل ہو اور اگر عورت کے پاس اس کے سوا بقدر نصاب مال نہیں تو عورت پر قربانی واجب نہیں ہوگی (عالمگیری)
مسٔلہ نمبر (12) کسی کے پاس دوسو درہم کی قیمت کا مصحف شریف (قرآن مجید)
ہے اگر وہ اسے دیکھ کر اچھی طرح تلاوت کر سکتا ہے تو اس پر قربانی واجب نہیں چاہے اس میں تلاوت کرتا ہو یا نہ کرتا ہو اور اگر اچھی طرح اسے دیکھ کر تلاوت نہ کرسکتا ہو تو واجب ہے۔ کتابوں کا بھی یہی حکم ہے کہ اس کے کام کی ہیں تو قربانی واجب نہیں ورنہ ہے(عالمگیری)
بحوالہ۔ بہار شریعت
حصہ۔ نمبر۔ 15
باب قربانی کا بیان
7۔ ذی قعدہ 1447
25۔ اپریل 2026



قسط ششم
اضحیہ یعنی قربانی کا بیان
مسأل فقھیہ
مسٔلہ نمبر (13)ایک مکان جاڑے کے لیے اور ایک گرمی کے لیے یہ حاجت میں داخل ہے ان کے علاوہ اس کے پاس تیسرا مکان ہو جو حاجت سے زائد ہے اگر یہ دوسو درہم کا ہے تو قربانی واجب ہے اسی طرح گرمی جاڑے کے بچھونے حاجت میں داخل ہیں اور تیسرا بچھونا جو حاجت سے زائد ہے اس کا اعتبار ہوگا۔ غازی کے لیے دو گھوڑے حاجت میں ہیں تیسرا حاجت سے زائد ہے۔ اسلحہ غازی کی حاجت میں داخل ہیں ہاں اگر ہرقسم کے دوہتھیار ہوں تو دوسرے کو حاجت سے زائد قرار دیا جائے گا۔ گاؤں کے زمیندار کے پاس ایک گھوڑا حاجت میں داخل ہے اور دوہوں تو دوسرے کو زایٔد مانا جائے گا
گھر میں پہننے کے کپڑے اور کام کاج کے وقت پہننے کے کپڑے اور جمعہ و عید اور دوسرے موقعوں پر پہن کر جانے کے کپڑے یہ سب حاجت میں داخل ہیں اور ان تین کے سوا چوتھا جوڑا اگر دوسو درہم کا ہے تو قربانی واجب ہے (عالمگیری ردالمحتار)
مسٔلہ نمبر (14)بالغ لڑکوں یا بیوی کی طرف سے قربانی کرنا چاہتاہے تو ان سے اجازت حاصل کر ے بغیر ان کے کہے اگر کردی تو ان کی طرف سے واجب ادا نہ ہوا اور نابالغ کی طرف سے اگر چہ واجب نہیں ہے مگر کردینا بہتر ہے۔ (عالمگیری)
مسٔلہ نمبر (15) قربانی کا حکم یہ ہے کہ اس کے ذمہ جو قربانی واجب ہے کرلینے سے
بری الزمہ ہو گیا اور اچھی نیت سے کی ہے ریا وغیرہ کی مداخلت نہیں تو اللہ عزوجل کے فضل سے امید ہے کہ آخرت میں اس کا ثواب ملے (درمختار وغیرہ)
مسٔلہ نمبر (16)یہ ضروری نہیں کہ دسویں ہی کو قربانی کر ڈالے اس کے لیے گنجائش ہے کہ پورے وقت میں جب چاہے کرے لہٰذا اگر ابتداۓ وقت میں اس کا اہل نہ تھا وجوب کے شرأط نہیں پاۓ جاتے تھے اور آخر وقت میں اہل ہوگیا یعنی وجوب کے شرأط پاۓ گۓ تو اس پر واجب ہو گیٔ اور اگر ابتداۓ وقت میں واجب تھی اور ابھی کی نہیں اور آخر وقت میں شرأط جاتے رہے تو واجب نہ رہی (عالمگیری)
مسٔلہ نمبر (17)ایک شخص فقیر تھا مگر اس نے قربانی کر ڈالی اس کے بعد ابھی وقت قربانی کا باقی تھا کہ غنی ہوگیا تو اس کو پھر قربانی کرنی چاہیے کہ پہلے جو کی تھی وہ واجب نہ تھی اور اب واجب ہے
بعض علماء نے فرمایا کہ وہ پہلی قربانی کا فی ہے اور اگر
باوجود مالک نصاب ہونے کے اس نے قربانی نہ کی اور وقت ختم ہونے کے بعد فقیر ہوگیا تو اس پر بکری کی قیمت کا صدقہ کرنا واجب ہے یعنی وقت گزرنے کے بعد قربانی ساقط نہیں ہوگی۔ اور اگر مالک نصاب بغیر قربانی کیے ہوئے انہیں دنوں میں مرگیا تو اس کی قربانی ساقط ہو گیٔ (عالمگیری درمختار)
مسٔلہ نمبر (18) قربانی کے وقت میں قربانی کرنا ہی لازم ہے کوئی دوسری چیز اس کے قأم مقام نہیں ہو سکتی مثلاً بجائے قربانی اس نے بکری یا اس کی قیمت صدقہ کردی یہ ناکافی ہے اس میں نیابت ہوسکتی ہے یعنی خود کرنا ضروری نہیں بلکہ دوسرے کو اجازت دے دی اس نے کردی یہ ہوسکتا ہے (عالمگیری)
مسٔلہ نمبر (19)جب قربانی کے شرأط مذکورہ پاۓ جایٔں تو بکری کا ذبح کرنا یا اونٹ یا گائے کا ساتواں حصہ واجب ہے ساتویں حصہ سے کم نہیں ہوسکتا بلکہ اونٹ یا گائے کے شرکا میں اگر کسی شریک کا ساتویں حصہ سے کم ہے تو کسی کی قربانی نہیں ہویٔ یعنی جس کا ساتواں حصہ یا اس سے زیادہ ہے اس کی بھی قربانی نہیں ہو یٔ۔ گاۓ یا اونٹ میں ساتویں حصہ سے زیادہ کی قربانی ہو سکتی ہے۔ مثلاً گاۓ کو چھ یا پانچ یا چار شخصوں کی طرف سے قربانی کریں ہوسکتا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ سب شرکا کے حصے برابر ہوں بلکہ کم وبیش بھی ہوسکتے ہیں ہاں یہ ضروری ہے کہ جس کا حصہ کم ہے تو ساتویں حصہ سے کم نہ ہو (درمختار ردالمحتار)
بحوالہ۔ بہار شریعت
حصہ۔ نمبر۔ 15
باب قربانی کا بیان
8۔ ذی قعدہ 1447
26۔ اپریل 2026



قسط ہفتم
اضحیہ یعنی قربانی کا بیان
مسأل فقھیہ
مسٔلہ نمبر (20)سات شخصوں نے پانچ گایوں کی قربانی کی یہ جایٔز ہے کہ ہرگاۓ میں ہر شخص کا ساتواں حصہ ہوا اور آٹھ شخصوں نے پانچ یا چھ گایوں میں بحصۂ مساوی سرکت کی یہ ناجائز ہے کہ ہر گاۓ میں ہر ایک کا ساتویں حصہ سے کم ہے۔ سات بکریوں کی سات شخصوں نے شریک ہوکر قربانی کی یعنی ہر ایک بکری میں ساتواں حصہ ہے استحسانا (استحسانن) قربانی ہو جائے گی یعنی ہر ایک کی ایک ایک بکری پوری قرار دی جاۓگی یوں ہیں دو شخصوں نے دو بکریوں میں شرکت کرکے قربانی کی بطور استحسان ہر ایک کی قربانی ہو جائے گی۔
مسٔلہ نمبر (21) شرکت میں گاۓ کی قربانی ہویٔ تو ضروری ہے کہ گوشت وزن کرکے تقسیم کیا جائے اندازہ سے تقسیم نہ ہو کیونکہ ہوسکتا ہے کہ کسی کو
زأد (زیادہ)یا کم ملے اور یہ ناجائز ہے یہاں یہ خیال نہ کیا جائے کہ کم وبیش ہوگا تو ہرایک اس کو دوسرے کے لیے جأزکر دے گا کہہ دے گا کہ اگر کسی کو زائد پہنچ گیا ہے تو معاف کیا کہ یہاں عدم جواز حق شرع ہے اور ان کو اس کے معاف کرنے کا حق نہیں (درمختار ردالمحتار)
مسٔلہ نمبر (22) قربانی کا وقت دسویں ذی الحجہ کے طلوع صبح صادق سے بارہویں کے غروب آفتاب تک ہے یعنی تین دن۔ دوراتیں اور ان دنوں کو ایام نحر کہتے ہیں اور گیارہ سے تیرہ تک تین دنوں کو ایام تشریق کہتے ہیں لہذا بیچ کے دودن ایام نحر وتشریق دونوں ہیں اور پہلا دن یعنی دسویں ذی الحجہ صرف یوم النحر ہے اور پچھلا دن یعنی تیرہویں ذی الحجہ صرف یوم التشریق ہے (درمختار وغیرہ)
مسٔلہ نمبر (23) دسویں کے بعد کی دونوں راتیں ایام نحر میں داخل ہیں ان میں بھی قربانی ہوسکتی ہے مگر رات میں ذبح کرنا مکروہ ہے (عالمگیری)
مسٔلہ نمبر (24)پہلا دن یعنی دسویں تاریخ سب میں افضل ہے پھر گیارہویں اور پچھلا دن یعنی بارہویں سب میں کم درجہ ہے اور اگر تاریخوں میں شک ہو یعنی تیس کا چاند مانا گیا ہے اور انتیس کے ہونے کا بھی شبہ ہے مثلاً گمان تھا کہ انتیس کا چاند ہوگا مگر ابر وغیرہ کی وجہ سے نہ دکھا یا شہادتیں گزریں مگر کسی وجہ سے قبول نہ ہویٔں ایسی حالت میں دسویں کے متعلق یہ شبہ ہے کہ شاید آج گیارہویں ہو تو بہتر یہ ہے کہ قربانی کو بارہویں تک مؤخر نہ کرے یعنی بارہویں سے پہلے کر ڈالے کیونکہ بارہویں کے متعلق تیرہویں تاریخ ہونے کا شبہ ہوگا تو یہ شبہ ہوگا کہ وقت سے بعد میں ہویٔ اور اس صورت میں اگر بارہویں کو قربانی کی جس کے متعلق تیرہویں ہونے کا شبہ ہے تو بہتر یہ ہے کہ سارا گوشت صدقہ کرڈالے بلکہ ذبح کی ہویٔ بکری اور زندہ بکری میں قیمت کا تفاوت ہو کہ زندہ کی قیمت کچھ زائد ہو تو اس زیادتی کو بھی صدقہ کر دے (عالمگیری)
مسٔلہ نمبر (25) ایام نحر میں قربانی کرنا اوتنی قیمت کے صدقہ کرنے سے افضل ہے کیونکہ قربانی واجب ہے یا سنت اور صدقہ کرنا تطوع محض ہے
لہذا قربانی افضل ہویٔ (عالمگیری)۔ اور وجوب کی صورت میں بغیر قربانی کیۓ عہدہ برآ نہیں ہوسکتا۔
مسٔلہ نمبر(26)شہر میں قربانی کی جائے تو شرط یہ ہے کہ نماز ہوچکے لہذا نماز عید سے پہلے شہر میں قربانی نہیں ہوسکتی اور دیہات میں چونکہ نماز عید نہیں ہے یہاں طلوع فجر کے بعد سے ہی قربانی ہوسکتی ہے اور دیہات میں بہتر یہ ہے کہ بعد طلوع آفتاب قربانی کی جائے اور شہر میں بہتر یہ ہے کہ عید کا خطبہ ہوچکنے کے بعد قربانی کی جائے(عالمگیری
یعنی نماز ہو چکی ہے اور ابھی خطبہ نہیں ہوا ہے اس صورت میں قربانی ہو جائے گی مگر ایسا کرنا مکروہ ہے
بحوالہ۔ بہار شریعت
حصہ۔ 15
باب قربانی کا بیان
9۔ ذی قعدہ 1447
27۔ اپریل 2026


قسط ہشتم۔ 8
اضحیہ یعنی قربانی کا بیان
مسأل فقھیہ
مسٔلہ نمبر (27) یہ جو شہر و دیہات کا فرق بتایا گیا یہ مقام قربانی کے لحاظ سے ہے قربانی کرنے والے کے اعتبار سے نہیں یعنی دیہات میں قربانی ہوتو وہ وقت ہے اگرچہ قربانی کرنے والا شہر میں ہو اور شہر میں ہو تو نماز کے بعد ہو اگرچہ جس کی طرف سے قربانی ہے وہ دیہات میں ہو لہذا شہری آدمی اگر یہ چاہتا ہے کہ صبح ہی نماز سے پہلے قربانی ہوجائے تو جانور دیہات میں بھیج دے (درمختار)
مسٔلہ نمبر (28) اگر شہر میں متعدد جگہ عید کی نماز ہوتی ہو تو پہلی جگہ نماز ہوچکنے کے بعد قربانی جائز ہے یعنی یہ ضروری نہیں کہ عیدگاہ میں نماز ہوجائے جب ہی قربانی کی جائے بلکہ کسی مسجد میں ہوگیٔ اور عیدگاہ میں نہ ہویٔ جب بھی ہوسکتی ہے (درمختار ردالمحتار)
مسٔلہ نمبر (29) دسویں کو اگر عید کی نماز نہیں ہویٔ تو قربانی کے لیے یہ ضروری ہے کہ وقت نماز جاتا رہے یعنی زوال کا وقت آجائے اب قربانی ہوسکتی ہے اور دوسرے یا تیسرے دن نماز عید سے قبل ہوسکتی ہے (درمختار)
مسٔلہ نمبر (30)منے' میں چونکہ عید کی نماز نہیں ہوتی لہٰذا وہاں جو قربانی کرنا چاہے طلوع فجر کے بعد سے کرسکتا ہے اس کے لیے وہی حکم ہے جو دیہات کا ہے۔ کسی شہر میں اگر فتنہ کی وجہ سے نماز عید نہ ہو تو وہاں دسویں کی طلوع فجر کے بعد قربانی ہوسکتی ہے (درمختار ردالمحتار)
مسٔلہ نمبر (31) امام ابھی نماز ہی میں ہے اور کسی نے جانور ذبح کرلیا اگرچہ امام قعدہ میں ہو اور بقدر تشہد بیٹھ چکا ہو مگر ابھی سلام نہ پھیرا ہو تو قربانی نہیں ہویٔ اور اگر امام نے ایک طرف سلام پھیر لیا ہے دوسری طرف باقی تھا کہ اس نے ذبح کردیا قربانی ہو گیٔ اور بہتر یہ ہے کہ خطبہ سے جب امام فارغ ہوجائے اس وقت قربانی کی جائے (عالمگیری)
مسٔلہ نمبر (32) امام نے نماز پڑھ لی اس کے بعد قربانی ہویٔ پھر معلوم ہوا کے امام نے بغیر وضو نماز پڑھا دی تو نماز کا اعادہ کیا جائے قربانی کے اعادہ کی ضرورت نہیں (درمختار)
مسٔلہ نمبر (33)یہ گمان تھا کہ آج عرفہ کا دن ہے (یعنی نویں ذی الحجہ کا دن) اور کسی نے زوال آفتاب کے بعد قربانی کرلی پھر معلوم ہوا کہ عرفہ کا دن نہ تھا بلکہ دسویں تاریخ تھی تو قربانی جائز ہوگیٔ (عالمگیری)
مسٔلہ نمبر (34)نویں کے متعلق کچھ لوگوں نے گواہی دی کہ دسویں ہے اس بنا پر اسی روز نماز پڑھ کر قربانی کی پھر معلوم ہوا کہ گواہی غلط تھی وہ نویں تاریخ تھی تو نماز بھی ہوگیٔ اور قربانی بھی (درمختار)
بحوالہ۔ بہار شریعت
حصہ۔ 15
باب قربانی کا بیان
10۔ ذی قعدہ 1447
28۔ اپریل 2026



قسط ہشتم۔ 8
اضحیہ یعنی قربانی کا بیان
مسأل فقھیہ
مسٔلہ نمبر (27) یہ جو شہر و دیہات کا فرق بتایا گیا یہ مقام قربانی کے لحاظ سے ہے قربانی کرنے والے کے اعتبار سے نہیں یعنی دیہات میں قربانی ہوتو وہ وقت ہے اگرچہ قربانی کرنے والا شہر میں ہو اور شہر میں ہو تو نماز کے بعد ہو اگرچہ جس کی طرف سے قربانی ہے وہ دیہات میں ہو لہذا شہری آدمی اگر یہ چاہتا ہے کہ صبح ہی نماز سے پہلے قربانی ہوجائے تو جانور دیہات میں بھیج دے (درمختار)
مسٔلہ نمبر (28) اگر شہر میں متعدد جگہ عید کی نماز ہوتی ہو تو پہلی جگہ نماز ہوچکنے کے بعد قربانی جائز ہے یعنی یہ ضروری نہیں کہ عیدگاہ میں نماز ہوجائے جب ہی قربانی کی جائے بلکہ کسی مسجد میں ہوگیٔ اور عیدگاہ میں نہ ہویٔ جب بھی ہوسکتی ہے (درمختار ردالمحتار)
مسٔلہ نمبر (29) دسویں کو اگر عید کی نماز نہیں ہویٔ تو قربانی کے لیے یہ ضروری ہے کہ وقت نماز جاتا رہے یعنی زوال کا وقت آجائے اب قربانی ہوسکتی ہے اور دوسرے یا تیسرے دن نماز عید سے قبل ہوسکتی ہے (درمختار)
مسٔلہ نمبر (30)منے' میں چونکہ عید کی نماز نہیں ہوتی لہٰذا وہاں جو قربانی کرنا چاہے طلوع فجر کے بعد سے کرسکتا ہے اس کے لیے وہی حکم ہے جو دیہات کا ہے۔ کسی شہر میں اگر فتنہ کی وجہ سے نماز عید نہ ہو تو وہاں دسویں کی طلوع فجر کے بعد قربانی ہوسکتی ہے (درمختار ردالمحتار)
مسٔلہ نمبر (31) امام ابھی نماز ہی میں ہے اور کسی نے جانور ذبح کرلیا اگرچہ امام قعدہ میں ہو اور بقدر تشہد بیٹھ چکا ہو مگر ابھی سلام نہ پھیرا ہو تو قربانی نہیں ہویٔ اور اگر امام نے ایک طرف سلام پھیر لیا ہے دوسری طرف باقی تھا کہ اس نے ذبح کردیا قربانی ہو گیٔ اور بہتر یہ ہے کہ خطبہ سے جب امام فارغ ہوجائے اس وقت قربانی کی جائے (عالمگیری)
مسٔلہ نمبر (32) امام نے نماز پڑھ لی اس کے بعد قربانی ہویٔ پھر معلوم ہوا کے امام نے بغیر وضو نماز پڑھا دی تو نماز کا اعادہ کیا جائے قربانی کے اعادہ کی ضرورت نہیں (درمختار)
مسٔلہ نمبر (33)یہ گمان تھا کہ آج عرفہ کا دن ہے (یعنی نویں ذی الحجہ کا دن) اور کسی نے زوال آفتاب کے بعد قربانی کرلی پھر معلوم ہوا کہ عرفہ کا دن نہ تھا بلکہ دسویں تاریخ تھی تو قربانی جائز ہوگیٔ (عالمگیری)
مسٔلہ نمبر (34)نویں کے متعلق کچھ لوگوں نے گواہی دی کہ دسویں ہے اس بنا پر اسی روز نماز پڑھ کر قربانی کی پھر معلوم ہوا کہ گواہی غلط تھی وہ نویں تاریخ تھی تو نماز بھی ہوگیٔ اور قربانی بھی (درمختار)
بحوالہ۔ بہار شریعت
حصہ۔ 15
باب قربانی کا بیان
10۔ ذی قعدہ 1447
28۔ اپریل 2026



قسط نہم (9)
اضحیہ یعنی قربانی کا بیان
مسأل فقھیہ
مسٔلہ نمبر (35)ایام نحر گزر گئے اور جس پر قربانی واجب تھی اس نے نہیں کی ہے تو قربانی فوت ہوگیٔ اب نہیں ہوسکتی پھر اگر اس نے قربانی کا جانور معین کر رکھا ہے مثلاً معین جانور کے قربانی کی منت مان لی ہے وہ شخص غنی ہو یا فقیر بہر صورت اسی معین جانور کو زندہ صدقہ کرے اور اگر ذبح کر ڈالا تو سارا گوشت صدقہ کرے اس میں سے کچھ نہ کھاۓ اور اگر کچھ کھالیا ہے تو جتنا کھا یا ہے اس کی قیمت صدقہ کرے اور اگر ذبح کیے ہوئے جانور کی قیمت زندہ جانور سے کچھ کم ہے تو جتنی کمی ہے اسے بھی صدقہ کرے اور فقیر نے قربانی کی نیت سے جانور خریدا ہے اور قربانی کے دن نکل گئے چونکہ اس پر بھی اسی معین جانور کی قربانی واجب ہے لہذا اس جانور کو زندہ صدقہ کردے اور اگر ذبح کر ڈالا تو وہی حکم ہے جو منت میں مذکور ہوا۔ یہ حکم اسی صورت میں ہے کہ قربانی ہی کے لیے خریدا ہو اور اگر اس کے پاس پہلے سے کوئی جانور تھا اور اس نے اس کے قربانی کرنے کی نیت کرلی یا خریدنے کے بعد قربانی کی نیت کی تو اس پر قربانی واجب نہ ہویٔ۔ اور غنی نے قربانی کے لیے جانور خریدلیا ہے تو وہی جانور صدقہ کردے اور ذبح کر ڈالا تو وہی حکم ہے جو مذکور ہوا اور خریدا نہ ہو تو بکری کی قیمت صدقہ کرے (درمختار ردالمحتار۔ عالمگیری)
مسٔلہ نمبر (36) قربانی کے دن گزر گئے اور اس نے قربانی نہیں کی اور جانور یا اس کی قیمت کو صدقہ بھی نہیں کیا یہاں تک کہ دوسری بقرعید آگیٔ اب یہ چاہتا ہے کہ سال گزشتہ کی قربانی کی قضا اس سال کرلے یہ نہیں ہوسکتا بلکہ اب بھی وہی حکم ہے کہ جانور یا اس کی قیمت صدقہ کرے (عالمگیری)
مسٔلہ نمبر (37)جس جانور کی قربانی واجب تھی ایام نحر گزر نے کے بعد اسے بیچ ڈالا تو ثمن (قیمت)کا صدقہ کرنا واجب ہے (عالمگیری)
مسٔلہ نمبر (38) کسی شخص نے یہ وصیت کی کہ اس کی طرف سے قربانی کردی جائے اور یہ نہیں بتایا کہ گاۓ یا بکری کس جانور کی قربانی کی جائے اور نہ قیمت بیان کی کہ اتنے کا جانور خرید کر قربانی کی جائے یہ وصیت جایٔز ہے اور بکری قربانی کر دینے سےوصیت پوری ہوگئی اور اگر کسی کو وکیل کیا کہ میری طرف سے قربانی کردینا اور گاۓ یا بکری کا تعین نہ کیا اور قیمت بھی بیان نہیں کی تو یہ تو کیل صحیح نہیں (عالمگیری)
مسٔلہ نمبر (39) قربانی کی منت مانی اور یہ معین نہیں کیا کہ گاۓ کی قربانی کرے گا یا بکری کی تو منت صحیح ہے بکری کی قربانی کر دینا کافی ہے اور اگر بکری کی قربانی کی منت مانی تو اونٹ یا گائے قربانی کر دینے سے بھی منت پوری ہو جائے گی منت کی قربانی میں سے کچھ نہ کھاۓ بلکہ سارا گوشت وغیرہ صدقہ کردے اور کچھ کھالیا تو جتنا کھا یا اس کی قیمت صدقہ کرے (عالمگیری)
بحوالہ۔ بہار شریعت
حصہ۔ 15
باب قربانی کا بیان
11۔ ذی قعدہ 1447
29۔ اپریل 2026


قسط دہم (10)
قربانی کے جانور کا بیان
مسأل فقھیہ
مسٔلہ نمبر (1) قربانی کے جانور تین قسم کے ہیں (1) اونٹ (2)گاۓ (3) بکری۔ ہر قسم میں اس کی جتنی نوعیں ہیں سب داخل ہیں نر اور مادہ خصی اور غیر خصی سب کا ایک حکم ہے یعنی سب کی قربانی ہو سکتی ہے۔ بھینس گاۓ میں شمار ہے اس کی بھی قربانی ہوسکتی ہے۔ بھیڑ اور دنبہ بکری میں داخل ہیں ان کی بھی قربانی ہوسکتی ہے۔ (عالمگیری وغیرہ)
مسٔلہ نمبر (2) وحشی جانور جیسے نیل گائے اور ہرن ان کی قربانی نہیں ہوسکتی وحشی اور گھریلو جانور سے مل کر بچہ پیدا ہوا مثلاً ہرن اور بکری اس میں ماں کا اعتبار ہے یعنی اس بچہ کی ماں بکری ہے تو جایٔز ہے اور بکرے اور ہرنی سے پیدا ہےتو ناجائز۔ (عالمگیری)
مسٔلہ نمبر (3) قربانی کے جانور کی عمر یہ ہونی چاہئے اونٹ پانچ (5)سال کا۔ گاۓ دو(2)سال کی۔ بکری ایک ( 1)سال کی اس سے عمر کم ہو تو قربانی جائز نہیں زیادہ ہو تو جایٔز بلکہ افضل ہے۔ ہاں دنبہ یا بھیڑ کا چھ ماھہ بچہ اگر اتنا بڑا ہو کہ دور سے دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔ (درمختار)
مسٔلہ نمبر (4) بکری کی قیمت اور گوشت اگر گاۓ کے ساتویں حصہ کی برابر ہو تو بکری افضل ہے اور گاۓ کے ساتویں حصہ میں بکری سے زیادہ گوشت ہو تو گاۓ افضل ہے یعنی جب دونوں کی ایک ہی قیمت ہو اور مقدار بھی ایک ہی ہو تو جس کا گوشت اچھا ہو وہ افضل ہے اور اگر گوشت کی مقدار میں فرق ہو تو جس میں گوشت زیادہ ہو وہ افضل ہے اور مینڈھا بھیڑ سے اور دنبہ دنبی سے افضل ہے جبکہ دونوں کی ایک قیمت ہو اور دونوں میں گوشت برابر ہو بکری بکرے سے افضل ہے مگر خصی بکرا بکری سے افضل ہے اور اونٹنی اونٹ سے اور گاۓ بیل سے افضل ہے جبکہ گوشت اور قیمت میں برابر ہوں (درمختار ردالمحتار)
مسٔلہ نمبر (5) قربانی کے جانور کو عیب سے خالی ہونا چاہیے اور تھوڑا سا عیب ہو تو قربانی ہوجائے گی مگر مکروہ ہوگی اور زیادہ عیب ہو تو ہوگی ہی نہیں۔ جس کے پیدائشی سینگ نہ ہو اس کی قربانی جائز ہے اور اگر سینگ تھے مگر ٹوٹ گیا اور مینگ (یعنی جڑ)تک ٹوٹا ہے تو ناجائز ہے اس سے کم ٹوٹا ہے تو جایٔز ہے۔ جس جانور میں جنوں ہے اگر اس حد کا ہے کہ وہ جانور چرتا بھی نہیں ہے تو اس کی قربانی ناجائز ہے اور اس حد کا نہیں ہے تو جایٔز ہے۔ خصی یعنی جس کے خصیے نکال لیے گئے ہیں یا مجبوب یعنی جس کے خصیے اور عضو تناسل سب کاٹ لیے گئے ہوں ان کی قربانی جائز ہے۔ اتنا بوڑھا کہ بچہ کے قابل نہ رہا یا داغا ہوا جانور یا جس کے دودھ نہ اترتا ہو ان سب کی قربانی جائز ہے۔ خارشتی (کھجلی والا) جانور کی قربانی جائز ہے جبکہ فربہ ہو اور اتنا لاغر ہو کہ ہڈی میں مغز نہ رہا تو قربانی جائز نہیں (درمختار۔ ردالمحتار۔ عالمگیری
بحوالہ۔ بہار شریعت
حصہ۔ 15
12۔ ذی قعدہ 1447
30۔ اپریل 2026
ٹایپنگ میں اگر کوئی غلطی ہو تو پرسنل پہ رابطہ کریں
محمد زبیر احمد قادری مجولیا بازار ضلع سیتا مڑھی بہار
رابطہ نمبر 8084432737

Ask a New Masla

Submit your question clearly. Limit: 1 question per day.

Live Visitor Statistics

Real-time website traffic overview

12,484

Today

15,755

Yesterday

110,283

Last 7 Days

483,300

Last 30 Days

790,492

Last 1 Year

790,492

Total Visitors